6 اشعار

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

Sang-e-dar us ka har ek dar pe laga milta hai

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

«سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہےدل کو آوارہ مزاجی کا مزا ملتا ہے

جو بھی گل ہے وہ کسی پیرہن گل پر ہےجو بھی کانٹا ہے کسی دل میں چبھا ملتا ہے

شوق وہ دام کہ جو رخصت پرواز نہ دےدل وہ طائر کہ اسے یوں بھی مزا ملتا ہے

وہ جو بیٹھے ہیں بنے ناصح مشفق سر پرکوئی پوچھے تو بھلا آپ کو کیا ملتا ہے

ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گےلوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

دام تزویر نہ ہو شوق گلو گیر نہ ہومے کدہ عرشؔ ہمیں آج کھلا ملتا ہے

— عرش صدیقی