12 اشعار

جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا

Josh-e-junoon bhi gardish-e-dauraan se kam na tha

جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا

«جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھادل تھا تو دشت غم بھی گلستاں سے کم نہ تھا

رنگینیٔ جمال کی سرحد نہ تھی کوئیاور حوصلہ بھی حیطۂ امکاں سے کم نہ تھا

کیا کیا بسی تھیں صورتیں دامان خواب میںدشت خیال شہر نگاراں سے کم نہ تھا

ہر آرزو کو اپنی نہایت کی فکر تھیبازار شوق حشر کے میداں سے کم نہ تھا

سچ ہے جنوں کی راہ میں ایماں گیا مگرپاس مزاج یار بھی ایماں سے کم نہ تھا

آوارگی کو وسعت صحرا بھی کم رہیدل کو جہان شوق بھی زنداں سے کم نہ تھا

ہم کو نہ تھی جنوں میں تمیز دماغ و دلدامن کا چاک چاک گریباں سے کم نہ تھا

اپنے لئے تھا باعث آبادئ نظربے ساختہ گریز جو پیماں سے کم نہ تھا

دیکھا نہ ہم نے یاں بھی شجر کوئی سایہ داریعنی دیار عشق بیاباں سے کم نہ تھا

مجرم نہیں تھے پھر بھی ستائے گئے ہمیںقاضی بزعم خویش سلیماں سے کم نہ تھا

راہوں میں زندگی کی لٹی سب متاع ہوشالجھاؤ ان کا زلف پریشاں سے کم نہ تھا

دل پر رقم تھی ایک سے اک طرفہ داستاںکوئی بھی زخم عرشؔ دبستاں سے کم نہ تھا

— عرش صدیقی