9 اشعار

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے

Utha jo dast-e-sitam qatl-e-be-nawa ke liye

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے

«اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئےنگاہ شوق نے بوسے ہر اک ادا کے لئے

مہک ہے تیرے شبستاں کی بوئے زلف صباچلی ہے باد صبا اک شکستہ پا کے لئے

سنو کہ دل کو مرے اعتبار زیست نہیںرکا ہوں ایک نفس عرض مدعا کے لئے

مرے خیال نے پہنا لباس حرف و نداصریر خامہ ہے رقصاں مری نوا کے لئے

دیار دل تو ہوا وقف آہوان جواںاب اور کوئی بنائیں گے گھر خدا کے لئے

مرے خیال کو قید مکاں قبول نہیںحدود بحر و بیاباں نہیں ہوا کے لئے

رہی نظر میں ہمارے عروس‌ شوق مدامفنائے زیست رہے زیست کی بقا کے لئے

کسے بتائیں کہ ہم نے پلا کے خون جگرچمن میں پھول کھلائے تری قبا کے لئے

خیال و رنگ و نقوش و حروف و لوح و قلمبچھے ہیں دام جمال گریز پا کے لئے

— عرش صدیقی