10 اشعار

منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں

Manzil-e-marg mein jeene ki ada rakhta hoon

منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں

«منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوںیعنی ہر حال میں انداز جدا رکھتا ہوں

جز ہوا کوئی نہیں مونس و غم خوار مگررات بھر کمرے کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں

اپنی فطرت کو سکھاتا ہوں غلامی تیریموج آزاد کو زنجیر بہ پا رکھتا ہوں

گم ہوں قطرے کی طرح وقت کے دریا میں مگراپنی ہستی کا طلسمات جدا رکھتا ہوں

زیر پا ہیں مرے صحراؤں کے جلتے میداںسر پہ آلام کے شعلوں کی ردا رکھتا ہوں

بحر‌ آزار بھی ہے حد نظر تک رقصاںجذبۂ شوق اگر حد سے سوا رکھتا ہوں

میری فریاد پہ کب باب عنایات کھلاہائے کس منہ سے کہوں میں بھی خدا رکھتا ہوں

غم نہ کر تو ہے اگر خوئے خرابی کا اسیرمیں بھی آلام سے پیمان وفا رکھتا ہوں

کیوں نہیں عکس ابد میں بھی سمندر جیسانقش بر آب ہوں خالق سے گلا رکھتا ہوں

عرشؔ میں خود ہوں سدا اپنے سکوں کا دشمندشت امید بھی بر دوش ہوا رکھتا ہوں

— عرش صدیقی