پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
کلام: عرش صدیقی
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑمطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ
ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بارپھر وہی راگ والہانہ چھیڑ
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑمطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ
ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بارپھر وہی راگ والہانہ چھیڑ
مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سےباہر نہیں نکلتے ہم روشنی کے ڈر سے
سائے کی آرزو میں لپٹے ہوئے ہیں ہم سبسنسان راستے میں آتش زدہ شجر سے