9 اشعار

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے

Tabinda husn-e-raaz-e-baharañ hameñ se hai

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے

«تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہےنظم خزاں جو ہے تو ہراساں ہمیں سے ہے

اپنے لہو کا رنگ ملا ہے بہار میںلالہ مثال شعلۂ رقصاں ہمیں سے ہے

جلتا ہے اپنا خوں ہی سر بزم رات بھراے حسن بے خبر یہ چراغاں ہمیں سے ہے

ہم آج شہر یار کے معتوب ہیں تو کیاہر دم وہ اپنے شہر میں ترساں ہمیں سے ہے

رکھی ہے ہم نے اپنی زباں پر وفا کی تیغنام نکوئے یار پر افشاں ہمیں سے ہے

ہر رنگ میں رہے ہمیں سر چشمۂ حیاتہے کائنات ہم سے تو یزداں ہمیں سے ہے

مرہون شوق بادہ گساراں ہے دور جاممینا حضور یار غزل خواں ہمیں سے ہے

شہرا ترا گیا مرے نغموں کے ساتھ ساتھعالم کو تیری دید کا ارماں ہمیں سے ہے

آنکھوں میں عرشؔ درد نے بھڑکائے ہیں کنولآب رواں میں آتش سوزاں ہمیں سے ہے

— عرش صدیقی