7 اشعار

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں

Kya saath tera dooñ ke maiñ ik mauj-e-hawa hooñ

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں

«کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوںبس ایک نفس عرض تمنا کو رکا ہوں

رہتا ہوں بگولوں کی طرح رقص میں بے تاباے ہم نفسو میں دل صحرا سے اٹھا ہوں

قطرہ ہوں میں دریا میں مجھے کچھ نہیں معلومہمراہ مرے کون ہے میں کس سے جدا ہوں

اک لمحہ ٹھہر مجھ کو بھی ہمراہ لیے چلاے لیلیٰ ہستی ترا نقش کف پا ہوں

اے ضبط نظر دے مرے ایماں کی گواہیتو ہی تو سمجھتا ہے کہ میں کون ہوں کیا ہوں

چاہے بھی تو وہ مجھ سے جدا ہو نہیں سکتاوہ ہے مری زنجیر تو میں اس کی صدا ہوں

میں عرش نشیں بھی ہوں ترے گھر کا مکیں بھیمیں نکہت ایمان ہوں میں بوئے وفا ہوں

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں