7 اشعار

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے

Dard ko hum zindagi ka kaif o kam kehte rahe

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے

«درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہےخامشی کے ساز پر روداد غم کہتے رہے

گوش بر آواز پوری بزم میں کوئی نہ تھاداستان آرزو کہنے کو ہم کہتے رہے

انتہائے یاس میں چلتے رہے بے مدعادیکھنے والے ہمیں ثابت قدم کہتے رہے

دل فریب زندگی میں بے طرح الجھا رہاعشق کو آزاد پتھر کو صنم کہتے رہے

کم سوادوں کو مسیحا ناخداؤں کو خدابود کو نابود ہستی کو عدم کہتے رہے

اپنے خوں سے داستان غم رقم کرتے رہےلوح دل کو نوک خنجر کو قلم کہتے رہے

آرزو کے کتنے بت خانے تھے اس دل میں نہاںعرشؔ جس دل کو سبھی طاق حرم کہتے رہے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں