9 اشعار

اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا

Apne ko tere dhyan mein jis ne mita diya

اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا

«اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیابھٹکے ہوؤں کو پاس کا رستا بتا دیا

ٹھہرا نہ جی مجھی کو ٹھکانے لگا دیااے دینے والے تو نے دیا بھی تو کیا دیا

الٹی کہی سمجھ کے جو کہنے کی بات تھیہونٹ اس کے یوں ہلے کہ کلیجا ہلا دیا

کیونکر پڑھوں کہ کیا ہے لکیروں میں ہاتھ کیجو لکھا آنسوؤں نے ٹپک کر مٹا دیا

جھپکی تھی جس سے آنکھ وہ بجلی بھی اب نہیںترسانا ہی تھا تم کو تو کیوں آسرا دیا

آنکھوں سے آنکھیں ملتے ہی دیوانے ہو گئےپھر بھر کے ان کٹوریوں میں تم نے کیا دیا

میں سوچ ہی میں تھا کہ لگی ہے کہاں پہ چوٹاک ہوک یوں اٹھی کہ ٹھکانا بتا دیا

دو سوتیں چل رہی ہیں اب آنکھیں نہیں رہیںڈھیلوں کو پانی کر کے لگی نے بہا دیا

چونک آرزوؔ کہ سانس دھواں دے رہی ہے ابچھالا نہ جان ابھرتے ہی جس کو دبا دیا

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں