اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا
کلام: آرزو لکھنوی
اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیابھٹکے ہوؤں کو پاس کا رستا بتا دیا
ٹھہرا نہ جی مجھی کو ٹھکانے لگا دیااے دینے والے تو نے دیا بھی تو کیا دیا
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیابھٹکے ہوؤں کو پاس کا رستا بتا دیا
ٹھہرا نہ جی مجھی کو ٹھکانے لگا دیااے دینے والے تو نے دیا بھی تو کیا دیا