6 اشعار

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

Na kar talash asar teer hai laga na laga

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

«نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا

حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نامنمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا

مرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دوریہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا

خوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخلبرا وہ کہتے رہے اور کچھ برا نہ لگا

چمک سے برق کی کم تر ہے وقفۂ دیدارنظر ہٹی کہ اسے ہاتھ اک بہانہ لگا

مری تلاش تھی تشویش دیدۂ بے نوروہ ملتے کیا مجھے اپنا ہی جب پتا نہ لگا

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں