12 اشعار

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

Mere Josh-e-gham ki hai ajab kahani

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

«مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی

ہے خوشی کا سودا خلش نہانیہے جگر کا چھالا ثمر جوانی

جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانینہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی

ازلی محبت ابدی کہانیکہ پس فنا ہے نئی زندگانی

ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکمجو تری کہانی وہ مری کہانی

وہ اٹھیں گے طوفاں کہ خدا بچائےیہ نئے نظارے یہ بھری جوانی

یہ نگاہ ترچھی یہ بل ابروؤں کاہر ادا ہے دل کش مگر امتحانی

مری کشتئ دل دم آہ و افغاںکبھی بادبانی تو کبھی دہانی

در دل سے پلٹا ہر اک آنے والاتری یاد کیا تھی مری پاسبانی

یہ ترا تلون یہ بدلتی چتونعجب اک بلا ہے کہ ہے ناگہانی

مری کشت دل پر پئے ژالہ باریہے سپید بادل عقب جوانی

کبھی آرزو تھا یہی داغ حسرتمجھے جو بنا دے تری مہربانی

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں