9 اشعار

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ

Taskeen-e-dil ka yeh kya qareena

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ

«تسکین دل کا یہ کیا قرینہ» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

تسکین دل کا یہ کیا قرینہروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ

بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گیہے کس ہوا میں دل کا سفینہ

ہیں کیا معمہ یہ آگ پانیپیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ

غم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاریدل کی تمنا نازک حسینہ

آج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھےخشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ

تاریخ دل کی خود نقش دل ہےکھا کھا کے چوٹیں چٹکا نگینہ

ٹوٹا ہوا دل الفت بھرا تھاڈھا کر عمارت پایا دفینہ

حد خرد سے ذات اس کی برتراونچی ہے منزل نیچا ہے زینہ

تم آرزوؔ ہو تم آرزوؔ ہوپھر کیسی رنجش پھر کیسا کینہ

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں