مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
کلام: آرزو لکھنوی
مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی
ہے خوشی کا سودا خلش نہانیہے جگر کا چھالا ثمر جوانی
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی
ہے خوشی کا سودا خلش نہانیہے جگر کا چھالا ثمر جوانی
مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیاچور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیا
اس سے طالب ہوں دیت کا آپ سے مطلب نہیںجس نے گردن ایک کو دی ایک کو خنجر دیا