نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا
کلام: آرزو لکھنوی
نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا
حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نامنمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا
حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نامنمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا
بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھےبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے
یہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چورجھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے