11 اشعار

آج

Aaj

آج

«آج» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

کار فرما پھر مرا ذوق غزل خوانی ہے آجپھر نفس کا ساز گرم شعلہ افشانی ہے آج

پھر نگاہ شوق کی گرمی ہے اور روئے نگارپھر عرق آلود اک کافر کی پیشانی ہے آج

پھر مرے لب پر قصیدے ہیں لب و رخسار کےپھر کسی چہرے پہ تابانی سی تابانی ہے آج

حسن اس درجہ نشاط حسن میں ڈوبا ہواانکھڑیاں بے خود شمیم زلف دیوانی ہے آج

لرزش لب میں شراب‌ و شعر کا طوفان ہےجنبش مژگاں میں افسون غزل خوانی ہے آج

وہ نفس کی زمزمہ سنجی نظر کی گفتگوسینۂ معصوم میں اک طرفہ طغیانی ہے آج

یاں بایں عالم غرور یوسفیت بھی نہیںواں زلیخائی بہ عزم چاکدامانی ہے آج

واں اشارے ہیں بہک جانا ہی عیش ہوش ہےہوش میں رہنا یقیناً سخت نادانی ہے آج

کش مکش سی کش مکش میں ہے مذاق عاشقیکامراں سی کامراں ہر سعئ امکانی ہے آج

حسن کے چہرے پہ ہے نور صداقت کی دمکعشق کے سر پر کلاہ فخر انسانی ہے آج

شوق سے موقع شناسی کی توقع بھی غلطمیں نے ان کی شکل بھی مشکل سے پہچانی ہے آج

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں