12 اشعار

ایک دوست کی خوش مذاقی پر

Ek Dost Ki Khush Mazaqi Par

ایک دوست کی خوش مذاقی پر

«ایک دوست کی خوش مذاقی پر» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

ہو نہیں سکتا تری اس "خوش مذاقی" کا جوابشام کا دلکش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب

رکھ بھی دے اب اس کتابِ خشک کو بالائے طاقاُڑ رہا ہے رنگ و بُو کی بزم میں تیرا مذاق

چھُپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہرِ زرفشاںدید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں

موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیرِ سحابجس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب

اِک نگارِ آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہواجیسے عارض پر عروسِ نو کے ہو رنگِ حیا

شانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شبآسماں پر منعقد ہونے کو ہے بزمِ طرب

اڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیورآ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نُور

دیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیںکیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیں؟

کیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیں؟کیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیں؟

کیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتاتیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صدا؟

سبزہ و گُل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیںاُف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیں

حسنِ فطرت کی لطافت کا جو تُو قائل نہیںمیں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں