22 اشعار

اعتراف

Aitraaf

اعتراف

«اعتراف» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہومیں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو

چمن دہر میں روح چمن آرائی ہوطلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو

بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہومجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے

میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہےخاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے

شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نےشہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے

خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نےحسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے

میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہےان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا

سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھاماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا

شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھابستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری

ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میریجنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم

درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلومخاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم

بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوملیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی

اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھیسنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھا

دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھاریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا

آہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھامیری ہر فتح میں ہے ایک ہزیمت پنہاں

ہر مسرت میں ہے راز غم و حسرت پنہاںکیا سنوگی مری مجروح جوانی کی پکار

میری فریاد جگر دوز مرا نالۂ زارشدت کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار

میں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکاروہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤں

اب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤںمیرے سائے سے ڈرو تم مری قربت سے ڈرو

اپنی جرأت کی قسم اب میری جرأت سے ڈروتم لطافت ہو اگر میری لطافت سے ڈرو

میرے وعدوں سے ڈرو میری محبت سے ڈرواب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیں

میں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیںاب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں