7 اشعار

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

Taskin-e-Dil-e-Mahzoon Na Hui Woh Sa'i-e-Karam Farma Bhi Gaye

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

«تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے

ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکےیاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے

آشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسماب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز تبسم پا بھی گئے

روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتےاک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے

ارباب جنوں پر فرقت میں اب کیا کہئے کیا کیا گزریآئے تھے سواد الفت میں کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے

یہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقیمحفل تو تری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے

اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میںسب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں