5 اشعار

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے

Kuchh tujh ko khabar hai hum kya kya ae shorish-e-dauraan bhool gaye

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے

«کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئےوہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے

اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیںاے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے

اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیںاے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے

سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکےسب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے

یہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان کی جفا کو کیا کہئےاک نشتر زہر آگیں رکھ کر نزدیک رگ جاں بھول گئے

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں