7 اشعار

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ

Aankhon se kuch chubhan bhi dil be-qarar kheench

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ

«آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچاشکوں کو جمع کرتے ہوئے انتظار کھینچ

تخلیق نو میں رکھ نئے مصرعے کے خد و خاللوح سخن پہ لفظ کی تازہ بہار کھینچ

ڈھیل اتنی دے رہا ہے محبت میں کیوں اسےہاتھوں سے دل نکل ہی نہ جائے مہار کھینچ

ماضی سے تو ملا دے مرے حال کا سرامیں منتظر کھڑا ہوں مرے یار تار کھینچ

کس نے کہا تھا چاند کو گرہن سے فتح کرکس نے کہا تھا سایۂ نصف النہار کھینچ

کب تک میں اس گلی کی طرف رخ کیے رکھوںایسے تو اے کشش نہ مجھے بار بار کھینچ

غرق اس کو کر نہ دے کہیں لہروں کا اضطرابکشتی پہ ہاتھ رکھ اسے دریا کے پار کھینچ

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں