7 اشعار

عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے

Aks manzar mein palatne ke liye hota hai

عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے

«عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہےآئینہ گرد سے اٹنے کے لیے ہوتا ہے

شام ہوتی ہے تو ہوتا ہے مرا دل بیتاباور یہ تجھ سے لپٹنے کے لیے ہوتا ہے

یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کئی دنیاؤں کوایسا پھیلاؤ سمٹنے کے لیے ہوتا ہے

علم جتنا بھی ہو کم پڑتا ہے انسانوں کورزق جتنا بھی ہو بٹنے کے لیے ہوتا ہے

سائے کو شامل قامت نہ کرو آخر کاربڑھ بھی جائے تو یہ گھٹنے کے لیے ہوتا ہے

گویا دنیا کی ضرورت نہیں درویشوں کویعنی کشکول الٹنے کے لیے ہوتا ہے

مطلع صبح نمو صاف تو ہوگا آزرؔابر چھایا ہوا چھٹنے کے لیے ہوتا ہے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں