7 اشعار

درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے

Daroon khwab naya ek jahan nikalta hai

درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے

«درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہےزمیں کی تہہ سے کوئی آسماں نکلتا ہے

بھلا نظر بھی وہ آئے تو کس طرح آئےمرا ستارہ پس کہکشاں نکلتا ہے

ہوائے شوق یہ منزل سے جا کے کہہ دیناذرا سی دیر ہے بس کارواں نکلتا ہے

مری زمین پہ سورج بہ وقت صبح و مسانکل تو آتا ہے لیکن کہاں نکلتا ہے

یہ جس وجود پہ تم ناز کر رہے ہو بہتیہی وجود بہت رائگاں نکلتا ہے

مقام وصل اک ایسا مقام ہے کہ جہاںیقین کرتے ہیں جس پر گماں نکلتا ہے

بدن کو چھوڑ ہی جانا ہے روح نے آزرؔہر اک چراغ سے آخر دھواں نکلتا ہے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں