7 اشعار

سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا

Suraj zameen ki aur dhakela nahin gaya

سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا

«سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیامُشکل تھا کھیل کھیلنا، کھیلا نہیں گیا

ڈر تھا کہ موت راہ میں بیٹھی نہ ہو کہیںمیں زندگی کی سمت اکیلا نہیں گیا

آنکھوں کی پُتلیوں میں سمٹتے رہے نقوشدل کے خلا میں خواب اُنڈیلا نہیں گیا

تو خاک عشق کر کے دکھائے گا اے دلاتجھ سے تو ایک ہجر بھی جھیلا نہیں گیا

وہ موت کا کنواں، وہ تحیر کی سمفنییادوں سے بچپنے کا وہ میلہ نہیں گیا

اب تک ٹھنی ہوئی ہے مری کائنات سےاب تک رُکا ہوا ہے جھمیلا، نہیں گیا

تخئیل کے حصول پہ عالم کی سیر کیآزر ہماری جیب سے دھیلا نہیں گیا

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں