7 اشعار

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے

Waqt ki sil dab gai deewar mein dar aa gaye

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے

«وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئےچند موسم بیتنے کے بعد سب گھر آ گئے

میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سےدل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے

میرے خوابوں میں نہ جانے کس کی لو شامل ہوئیمیری آنکھوں میں نہ جانے کس کے منظر آ گئے

سوچتے ہی سوچتے ہم پر کھلے لہروں کے بھیددیکھتے ہی دیکھتے دریا پلٹ کر آ گئے

زندگی نے ہاتھ کھینچا سانس کی تفہیم سےاور یوں الزام سارے موت کے سر آ گئے

ان کے رنگ سرخ پر حیران ہوں خود بھی جو اشکآنکھ اندر کی طرف کھلتے ہی باہر آ گئے

جانے ان رستوں پہ کیا گزرے گی آزرؔ صبح تکشام سے پہلے ہی ہم آوارگاں گھر آ گئے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں