7 اشعار

دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا

Dil de ke khush tha main wo dua de ke khush hua

دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا

«دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوادرویش مجھ کو اپنا پتا دے کے خوش ہوا

پتھر نے اپنے ساتھ کے پتھر سے بات کیآئینہ آئنے کو صدا دے کے خوش ہوا

اس پر کھلے نہیں ابھی وحشت کے داؤں پیچجو میری شعلگی کو ہوا دے کے خوش ہوا

ایسا کبھی ہوا تھا نہ ہوتا ہے ہجر میںلیکن یہ دل بغیر ارادے کے خوش ہوا

منزل کو کیا خبر ہے کہ رستوں کے بیچوں بیچآواز کس کو آبلہ پا دے کے خوش ہوا

میں وہ ہوں جس کے حرف محبت کا نور ہیںمیں وہ ہوں جس کو ظرف خدا دے کے خوش ہوا

آزرؔ مجھے تو اس کی خوشی ہی عزیز تھیلیکن وہ شخص مجھ کو سزا دے کے خوش ہوا

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں