9 اشعار

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

Aaye kuch abr kuch sharab aaye

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

«آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترےدست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظرتیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حسابآج تم یاد بے حساب آئے

نہ گئی تیرے غم کی سرداریدل میں یوں روز انقلاب آئے

جل اٹھے بزم غیر کے در و بامجب بھی ہم خانماں خراب آئے

اس طرح اپنی خامشی گونجیگویا ہر سمت سے جواب آئے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

— فیض احمد فیض