6 اشعار

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا

Aaj yun mauj dar mauj gham tham gaya is tarah ghamzadon ko qarar aa gaya

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا

«آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیاجیسے خوشبوئے زلف بہار آ گئی جیسے پیغام دیدار یار آ گیا

جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رو بہ رو پھر سر رہ گزار آ گیاصبح فردا کو پھر دل ترسنے لگا عمر رفتہ ترا اعتبار آ گیا

رت بدلنے لگی رنگ دل دیکھنا رنگ گلشن سے اب حال کھلتا نہیںزخم چھلکا کوئی یا کوئی گل کھلا اشک امڈے کہ ابر بہار آ گیا

خون عشاق سے جام بھرنے لگے دل سلگنے لگے داغ جلنے لگےمحفل درد پھر رنگ پر آ گئی پھر شب آرزو پر نکھار آ گیا

سرفروشی کے انداز بدلے گئے دعوت قتل پر مقتل شہر میںڈال کر کوئی گردن میں طوق آ گیا لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آ گیا

فیضؔ کیا جانیے یار کس آس پر منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبرمے کشوں پر ہوا محتسب مہرباں دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آ گیا

— فیض احمد فیض