5 اشعار

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے

Kab tak dil ki khair manayen kab tak rah dikhlao ge

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے

«کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گےکب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے

بیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میںکب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گے

عہد وفا یا ترک محبت جو چاہو سو آپ کرواپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے

کس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلیگیسوؤں والے کون تھے کیا تھے ان کو کیا جتلاؤ گے

فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا تھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے

— فیض احمد فیض