5 اشعار

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں

Kab yaad mein tera saath nahin kab haath mein tera haath nahin

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں

«کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیںصد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیںدل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہےیہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاںعاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیساگر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

— فیض احمد فیض