5 اشعار

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

Kabhi kabhi yaad mein ubharte hain naqsh-e-maazi miTe miTe se

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

«کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سےوہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سے

کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سےوہ ساری باتیں لگاؤ کی سی وہ سارے عنواں وصال کے سے

نگاہ و دل کو قرار کیسا نشاط و غم میں کمی کہاں کیوہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے الفت نئے سرے سے

بہت گراں ہے یہ عیش تنہا کہیں سبک تر کہیں گواراوہ درد پنہاں کہ ساری دنیا رفیق تھی جس کے واسطے سے

تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسایہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے

— فیض احمد فیض