6 اشعار

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

Tumhari Yaad Ke Jab Zakhm Bharne Lagte Hain

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

«تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںکسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

حدیث یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیںتو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں

ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہےجو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں

صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکر وطنتو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ہیں

وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گریفضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں

در قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہےتو فیضؔ دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں

— فیض احمد فیض