25 اشعار

چادر اور چار دیواری

Chaadar aur chaar deewari

چادر اور چار دیواری

«چادر اور چار دیواری» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گییہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوںغم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤںنہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤںاگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤںتو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرورحضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہےیہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجےسیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئےکہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہےوہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی تن کی ڈھانپتی ہےسنیں ذرا دل خراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولےجو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گےحضور پہچانتے تو ہوں گے

یہ لونڈیاں ہیںکہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں

دم صبح در بدر ہیںحضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیںکہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیںیہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقتتو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہےپڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشہاب اس تماشہ کو ختم کیجے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئےسیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوتحیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت

زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنتیہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک

کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہمیں آدم نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں