5 اشعار

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا

Ye kis ke aansuon ne is naqsh ko mitaya

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا

«یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایاجو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا

تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکلترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا

اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سےاس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا

اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھیمیری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا

پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہےوہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں