14 اشعار

انقلابی عورت

Inqilabi aurat

انقلابی عورت

«انقلابی عورت» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سالاک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بال

پاپڑ جیسی ہوئیں ہڈیاں جلنے لگے ہیں دانتجگہ جگہ جھریوں سے بھر گئی سارے تن کی کھال

دیکھ کے اپنا حال ہوا پھر اس کو بہت ملالارے میں بڑھیا ہو جاؤں گی آیا نہ تھا خیال

اس نے سوچاگر پھر سے مل جائے جوانی

جس کو لکھتے ہیں دیوانیاور مستانی

جس میں اس نے انقلاب لانے کی ٹھانیوہی جوانی

اب کی بار نہیں دوں گی کوئی قربانیبس لاحول پڑھوں گی اور نہیں دوں گی کوئی قربانی

دل نے کہاکس سوچ میں ہے اے پاگل بڑھیا

کہاں جوانییعنی اس کو گزرے اب تک کافی عرصہ بیت چکا ہے

یہ خیال بھی دیر سے آیابس اب گھر جا

بڑھیا نے کب اس کی مانیحالانکہ اب وہ ہے نانی

ظاہر ہے اب اور وہ کر بھی کیا سکتی تھیآسمان پر لیکن تارے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے

رات کے پنچھی بول رہے تھےاور کہتے تھے

یہ شاید اس کی عادت ہےیا شاید اس کی فطرت ہے

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں