22 اشعار

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا

Lao haath apna lao zara

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا

«لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذراچھو کے میرا بدن

اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنوناف کے اس طرف

اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تمبس یہیں چھوڑ دو

تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دومیرے بے کل نفس کو قرار آ گیا

میرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گرمیرا ہر موئے تن

اس ہتھیلی سے تسکین پانے لگااس ہتھیلی کے نیچے مرا لال کروٹ سی لینے لگا

انگلیوں سے بدن اس کا پہچان لوتم اسے جان لو

چومنے دو مجھے اپنی یہ انگلیاںان کی ہر پور کو چومنے دو مجھے

ناخنوں کو لبوں سے لگا لوں ذراپھول لاتی ہوئی یہ ہری انگلیاں

میری آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوئےان سے سینچوں گی میں

پھول لاتی ہوئی انگلیوں کی جڑیں چومنے دو مجھےاپنے بال اپنے ماتھے کا چاند اپنے لب

یہ چمکتی ہوئی کالی آنکھیںمرے کانپتے ہونٹ میری چھلکتی ہوئی آنکھ کو دیکھ کر کتنی حیران ہیں

تم کو معلوم کیا تم کو معلوم کیاتم نے جانے مجھے کیا سے کیا کر دیا

میرے اندر اندھیرے کا آسیب تھایا کراں تا کراں ایک انمٹ خلا

یوں ہی پھرتی تھی میںزیست کے ذائقے کو ترستی ہوئی

دل میں آنسو بھرے سب پہ ہنستی ہوئیتم نے اندر مرا اس طرح بھر دیا

پھوٹتی ہے مرے جسم سے روشنیسب مقدس کتابیں جو نازل ہوئیں

سب پیمبر جو اب تک اتارے گئےسب فرشتے کہ ہیں بادلوں سے پرے

رنگ سنگیت سر پھول کلیاں شجرصبح دم پیڑ کی جھومتی ڈالیاں

ان کے مفہوم جو بھی بتائے گئےخاک پر بسنے والے بشر کو مسرت کے جتنے بھی نغمے سنائے گئے

سب رشی سب منی انبیا اولیاخیر کے دیوتا حسن نیکی خدا

آج سب پر مجھےاعتبار آ گیا اعتبار آ گیا

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں