11 اشعار

بیٹھا ہے میرے سامنے وہ

Baitha hai mere saamne woh

بیٹھا ہے میرے سامنے وہ

«بیٹھا ہے میرے سامنے وہ» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہے

اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کووحشت کرنا بھی آ گیا ہے

بچھ جاؤں میں اس کے راستے میںپھر بھی کیا اس سے فائدہ ہے

ہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیںوہ میرے لیے نہیں بنا ہے

میرے لیے اس کے ہاتھ کافیاس کے لیے سارا فلسفہ ہے

میری نظروں سے ہے پریشاںخود اپنی کشش سے ہی خفا ہے

سب بات سمجھ رہا ہے لیکنگم سم سا مجھ کو دیکھتا ہے

جیسے میلے میں کوئی بچہاپنی ماں سے بچھڑ گیا ہے

اس کے سینے میں چھپ کے روؤںمیرا دل تو یہ چاہتا ہے

کیسا خوش رنگ پھول ہے وہجو اس کے لبوں پہ کھل رہا ہے

یا رب وہ مجھے کبھی نہ بھولےمیری تجھ سے یہی دعا ہے

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں