5 اشعار

مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں

Muddat se ye aalam hai dil ka hansta bhi nahin rota bhi nahin

مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں

«مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیںماضی بھی کبھی دل میں نہ چبھا آئندہ کا سوچا بھی نہیں

وہ میرے ہونٹ پہ لکھا ہے جو حرف مکمل ہو نہ سکاوہ میری آنکھ میں بستا ہے جو خواب کبھی دیکھا بھی نہیں

چلتے چلتے کچھ تھم جانا پھر بوجھل قدموں سے چلنایہ کیسی کسک سی باقی ہے جب پاؤں میں وہ کانٹا بھی نہیں

دھندلائی ہوئی شاموں میں کوئی پرچھائیں سی پھرتی رہتی ہےمیں آہٹ سنتی ہوں جس کی وہ وہم نہیں سایہ بھی نہیں

تزئین لب و گیسو کیسی پندار کا شیشہ ٹوٹ گیاتھی جس کے لئے سب آرائش اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں