12 اشعار

اب سو جاؤ

Ab so jaao

اب سو جاؤ

«اب سو جاؤ» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

تم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہو

بچے کی سو بھولی صورتاب تک ضد کرنے کی عادت

کچھ کھوئی کھوئی سی باتیںکچھ سینے میں چبھتی یادیں

اب انہیں بھلا دو سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

سو جاؤ تم شہزادے ہواور کتنے ڈھیروں پیارے ہو

اچھا تو کوئی اور بھی تھیاچھا پھر بات کہاں نکلی

کچھ اور بھی یادیں بچپن کیکچھ اپنے گھر کے آنگن کی

سب بتلا دو پھر سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کییہ جھلمل کرتی خاموشی

یہ ڈھلتی رات ستاروں کیبیتے نہ کبھی تم سو جاؤ

اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں