6 اشعار

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

Kabhi dhanak si utarti thi in nigahon mein

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

«کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میںوہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں

میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمتکشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں

وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہےنہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں

سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آوازکہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں

مری طرح یوں ہی گم کردہ راہ چھوڑے گیتم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں

نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں منزل نا یافتمرا سفر تو ہے تحریر میری راہوں میں

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں