8 اشعار

پچھتاوا

Pachtaawa

پچھتاوا

«پچھتاوا» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دیبہشت سے جب اسے نکالا

تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھییہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے

تمام ادوار چھان ڈالوروایتوں میں حکایتوں میں

ازل سے تاریخ کہہ رہی ہےکہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے

وہ وقت جب سے کہ آدمی نےخدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا

اورسرکشی کی

تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہآدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے

مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں