7 اشعار

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے

Afsos tumhein car ke sheeshe ka hua hai

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے

«افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہےپروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہے

ہوتا ہے اثر تم پہ کہاں نالۂ غم کابرہم جو ہوئی بزم طرب اس کا گلا ہے

فرعون بھی نمرود بھی گزرے ہیں جہاں میںرہتا ہے یہاں کون یہاں کون رہا ہے

تم ظلم کہاں تک تہ افلاک کرو گےیہ بات نہ بھولو کہ ہمارا بھی خدا ہے

آزادئ انساں کے وہیں پھول کھلیں گےجس جا پہ ظہیر آج ترا خون گرا ہے

تا چند رہے گی یہ شب غم کی سیاہیرستہ کوئی سورج کا کہیں روک سکا ہے

تو آج کا شاعر ہے تو کر میری طرح باتجیسے مرے ہونٹوں پہ مرے دل کی صدا ہے

— حبیب جالب