7 اشعار

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں

Apnon ne woh ranj diye hain begaane yaad aate hain

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں

«اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیںدیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیں

اس نگری میں قدم قدم پہ سر کو جھکانا پڑتا ہےاس نگری میں قدم قدم پر بت خانے یاد آتے ہیں

آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں غربت کے صحراؤں میںجب اس رم جھم کی وادی کے افسانے یاد آتے ہیں

ایسے ایسے درد ملے ہیں نئے دیاروں میں ہم کوبچھڑے ہوئے کچھ لوگ پرانے یارانے یاد آتے ہیں

جن کے کارن آج ہمارے حال پہ دنیا ہستی ہےکتنے ظالم چہرے جانے پہچانے یاد آتے ہیں

یوں نہ لٹی تھی گلیوں دولت اپنے اشکوں کیروتے ہیں تو ہم کو اپنے غم خانے یاد آتے ہیں

کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالبؔچاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں

— حبیب جالب