7 اشعار

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

Aur sab bhool gaye harf-e-sadaqat likhna

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

«اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھناہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کوحق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھاشاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا

اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگیپڑھ کے نا خوش ہیں مرا صاحب ثروت لکھنا

دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئےسرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا

کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہہ کے مصاحب جالبؔرنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا

— حبیب جالب