5 اشعار

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں

Baaten to kuchh aisi hain ke khud se bhi na ki jaayen

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں

«باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیںسوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں

اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والااس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں

اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنااچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں

اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نےاپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی جائیں

جالبؔ غم دوراں ہو کہ یاد رخ جاناںتنہا مجھے رہنے دیں مرے دل سے سبھی جائیں

— حبیب جالب