7 اشعار

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو

Bate raho ge to apna yun hi bahe ga lahu

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو

«بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہوہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو

ہو کس گھمنڈ میں اے لخت لخت دیدہ وروتمہیں بھی قاتل محنت کشاں کہے گا لہو

اسی طرح سے اگر تم انا پرست رہےخود اپنا راہنما آپ ہی بنے گا لہو

سنو تمہارے گریبان بھی نہیں محفوظڈرو تمہارا بھی اک دن حساب لے گا لہو

اگر نہ عہد کیا ہم نے ایک ہونے کاغنیم سب کا یوں ہی بیچتا رہے گا لہو

کبھی کبھی مرے بچے بھی مجھ سے پوچھتے ہیںکہاں تک اور تو خشک اپنا ہی کرے گا لہو

صدا کہا یہی میں نے قریب تر ہے وہ دورکہ جس میں کوئی ہمارا نہ پی سکے گا لہو

— حبیب جالب