6 اشعار

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

Bhula bhi de use jo baat ho gayi pyare

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

«بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارےنئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے

تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گاکبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے

نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیالعجیب صورت حالات ہو گئی پیارے

اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغریہ کیسی شام خرابات ہو گئی پیارے

وفا کا نام نہ لے گا کوئی زمانے میںہم اہل دل کو اگر مات ہو گئی پیارے

تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔالگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

— حبیب جالب