4 اشعار

چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا

Choor tha zakhmon se dil zakhmi jigar bhi ho gaya

چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا

«چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیااس کو روتے تھے کہ سونا یہ نگر بھی ہو گیا

لوگ اسی صورت پریشاں ہیں جدھر بھی دیکھیےاور وہ کہتے ہیں کوہ غم تو سر بھی ہو گیا

بام و در پر ہے مسلط آج بھی شام المیوں تو ان گلیوں سے خورشید سحر بھی ہو گیا

اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئیختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا

— حبیب جالب