7 اشعار

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

Darakht sookh gaye ruk gaye nadi naale

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

«درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالےیہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والے

کہانیاں جو سناتے تھے عہد رفتہ کینشاں وہ گردش ایام نے مٹا ڈالے

میں شہر شہر پھرا ہوں اسی تمنا میںکسی کو اپنا کہوں کوئی مجھ کو اپنا لے

صدا نہ دے کسی مہتاب کو اندھیروں میںلگا نہ دے یہ زمانہ زبان پر تالے

کوئی کرن ہے یہاں تو کوئی کرن ہے وہاںدل و نگاہ نے کس درجہ روگ ہیں پالے

ہمیں پہ ان کی نظر ہے ہمیں پہ ان کا کرمیہ اور بات یہاں اور بھی ہیں دل والے

کچھ اور تجھ پہ کھلیں گی حقیقتیں جالبؔجو ہو سکے تو کسی کا فریب بھی کھا لے

— حبیب جالب