7 اشعار

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

Dil par shauq ko pehlu mein dabaye rakha

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

«دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھاتجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا

چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلےہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا

غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصتپھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا

پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتےکیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا

جانے کس حال میں ہیں کون سے شہروں میں ہیں وہزندگی اپنی جنہیں ہم نے بنائے رکھا

ہائے کیا لوگ تھے وہ لوگ پری چہرہ لوگہم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا

اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ہم ان کوجن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں